ابنا: ملت جعفریہ توقع کر رہی تھی کے سانحہ کوہستان اور سانحہ چلاس میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔ ایسا کیوں نہیں ہوسکا؛ اس سوال نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کی ساکھ کو داو پر لگادیاہے۔کیا حکمران اتحاد سانحۂ چلاس اور سانحہ کوہستان میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر پائیں گے؟ آخر ہنزہ نگر میں آپریشن کیوں؟ اور سانحہ چلاس و کوہستان کے دہشت گردوں کے علاقوں میں آپریش کیوں نہیں؟ایک اہم سبب اس فیصلے کا دہشت گردوں کو حاصل سرپرستی ہے۔ یہ خبر بھی منظر عام پر آچکی ہیں کی سعودی لابی کی حمایت بعض گروہوں کو حاصل ہے۔ الزامات یہ بھی سامنے آئے ہیں کی گلگت بلتستان میں سعودی فنڈنگ سے تربیتی مرکز چل رہے ہیں۔ ان خبروں کے باوجود موجودہ حکومت اور حکمران اتحاد نے نے ملک کے مفادات اور سلامتی کو قربان کر دیا ہے۔ خود سعودی حکومت کو سوچنا چاہیے کہ ایسے گروہ جو دہشت گردی کرتے ہیں اور پاکستان میں نفرت کا بیج بوتے ہیں ان کو فنڈنگ کیوں کرتے ہیں؟کیوں ایسے گروہوں کی سرپرستی کرتے ہیں؟یقیناًکئی اسباب اور وجوہات ہیں ورنہ ملک کے وزیر داخلہ رحمان ملک خود شیعہ علماء قیادت کو یقین دہانی کراچکے تھے ۔ کہ ان کے سارے مطالبات جائز ہیں اور انہیں تسلیم کرلیا گیا ہے اور ان پر عمل بھی کیا جائے گا۔ اتنے اہم اور بڑے منصب پر برااجمان شخصیت کو اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں پر عمل کرنا چاہیے ۔ عوام اور خواص حق بجانب ہیں کہ وہ سوال کریں کہ سانہ چلاس اور سانحہ کوہستان کے مجرموں کے خلاف آپریشن کے بجائے ہنزہ نگر میں آپریشن کی حکمت ایک طرف صورتحال یہ ہے کہ شیعہ مسلمانوں نے اس وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کردیں۔ مگر حکمران اتحاد کی جانب سے ناانصافی اور غیر عادلانہ پالیسیاں اور رویہ حاصل ہوا۔ تاحال وہ حکومت کی جانب نطر لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ اپنے غیر جمہوری اور غیر عادلانہ رویے تبدیل کریں۔ وہ جمہوریت جو انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے آگے جھک جائے وہ ایک جعلی جمہوریت ہے۔ سانحہ چلاس اور کوہستان کے مجرم دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہ کرنے کا فیصلہ اس حکمران اتحاد اور اس کی جمہوریت کے کھوکھلے پن کا ناقابل تردید ثبوت ہے......../169 - 110
22 اپریل 2012 - 19:30
News ID: 310659
سانحہ کوھستان اور سانحہ چلاس کے پکڑنے کے بجائے ۔حکومت نے ہنزہ نگر میں بے گناہ شیعوں کی گرفتاری کا عمل شروع کیا ہے یہ سب کے لیے ایک حیران کن فیصلہ ہے۔